Featured

تنہا جیسٹر کی عشقیہ داستان

Photo by Andrea Piacquadio on Pexels.com

XIX — 7 ext (2017)

میرا نام

 MacCole, Colman, Tyrell, Elliot

  کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن میرے ذہن کو ایک شدید جذباتی صدمے سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے باعث میں ظاہری طور پہ حواس کھو بیٹھتا ہوں لیکن اندرونی طور پہ میں ایک نئی دنیا میں چلا جاتا ہوں کہ جو ہوتی تو وہی ہے جو پہلے تھی لیکن اِس میں کچھ غیر حقیقی ہوتا ہے: کچھ حروف مثلًا یہ پین جس سے میں لکھ رہا ہوں، پہ جو لکھا ہے وہ میں خواب میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوتا ہوں، یا ہندسے جیسے جاپان پہ گرنے والے دوسرے بم کی تاریخ کو 6 میں تبدیل ہوتا دیکھتا ہوں، اور 6 کو

 3×2

میں؛ 3کروڑ اور منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ برابر ہوجاتے ہیں، جیسے ڈونٹ اور ایک ہینڈل کا حامل کپ ، یا بلی اور بیل۔  مجھے اپنے اردگرد کے لوگ خود پہ ہنستے معلوم ہوتے ہیں، اور میں ان کے گلے دبانا چاہتا ہوں۔ میرے ذہن میں گالیاں گردش کرتی ہیں۔ باربار کوئی شخص مجھے اشاروں سے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جس کو میں نظرانداز کردیتا ہوں۔ کوئی پوسٹر اُڑ کے اچانک منہ پہ چپک جاتا ہے جس کو میں ڈر کے مارے پھینک دیتا ہوں۔ مجھے ہر روز کہیں جانا ہوتا ہے لیکن میں اتنی دیر لگادیتا ہوں تیار ہونے میں کہ پھر وہاں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حروف ہر جگہ ہیں جیسے

periodic table

میں 23

 V  

ہے اور

 Roman

میں

 v=5

  اور 5=3+2 –میں ان سے نظریں نہیں چرا سکتا اور

 TV

 پہ ہنستے ہوئے لوگوں سے کہ جو سب میری ہی کہانی الگ الگ پیرائے میں بیان کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ ایک شکل پہ7 لوگ ہوتے ہیں اور آبادی 7 ارب سے زیادہ ہے سو مجھ جیسے 6 اور لوگ ہیں جو اس وقت اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک خودکشی کرلیتا ہے ایک پاگل خانے میں ایک روس میں ایک ایکواڈور کے سفارتخانے میں ایک کانسپرسی پہ کتابیں لکھتا ہے ایک خدا کے سامنے سرجھکائے ہوئے اور جب کوئی خودکشی کرلیتا ہے تو آواگون کے ماتحت دوبارہ پیدا ہوتا ہے اور دوبارہ بڑا ہوتا ہے اور اپنی عظمت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ اور بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو میں چاہتا ہوں کہ ہو اور کچھ جو میں نہیں چاہتا کہ ہو اور کچھ جو میرے الفاظ کا الٹ ہوتا ہے اور کچھ جو میرے شعور کے برعکس  تحت الشعور کی خواہش ہوتی ہے کہ ہو اور کوئی جہاز گر جاتا ہے کہ جس کا ٹائر میرے سر پہ خواب میں گرا تھا۔ اور پھر فون بج اٹھتا ہے۔ کوئی میسج مجھ پہ ہنسنے والوں کی طرف سے یا شاید مجھےاشارے کرنے والے کی طرف سے لیکن کس وقت کیا ہو کیا پتا۔ جانے میں تیرھواں خط لکھ پاؤں گا۔ اور متن میں لکھا ہوتا ہے—آپ  کے ذہن میں جو سوال اٹھتے ہیں ان کے حوالے سے اِس نمر پہ رابطہ کریں۔ کیسے سوال، میرے ذہن میں کوئی سوال نہیں اٹھتے۔ پھر میں میسج دوبارہ پڑھتا ہوں۔ موبائل رکھ دیتا ہوں۔ پھر اٹھا کے پڑھتا ہوں اور پھر مجھے نیند آجاتی ہے۔ میں خواب دیکھتا ہوں کہ بالآخر میں اس کو پاگیا ہوں لیکن میسج آتا ہے خواب دیکھنا چھوڑدو، اور میں ہڑبڑا کے اٹھ جاتا ہوں۔جیسے مجھ پہ جہاز کا ٹائر آگرا ہو لیکن وہ محض 110 ڈیسی بل  کی آواز ہے، کسی نے نیا بلینڈر چیک  کرنے کا پروگرام رات کےلئے اٹھا رکھا تھا۔ کیا یہ رات ہے، کیا سورج کا نہ دکھائی دینا رات  اور کیا ہر جگہ رات ہے اور جب میں کسی دوسرے شہر جاتا ہوں تب کہیں میں ٹیڑھےمیڑھے راستوں سے ہوکے واپس اپنے شہر میں تو نہیں نکل آتا۔  اور میں پھر کسی دوسرے ملک میں بیٹھی اپنی بہن سے معصومانہ انداز میں پوچھتا ہوں، حسرت کا شوگرکوٹ لئے: وہاں تو رات ہوگی۔ اور کیا وہ واقعی میری بہن ہے۔ میں نے کبھی

 dna

ٹیسٹ نہیں کیا اور کیا میں لیبارٹری کے نتائج پہ یقین کرسکتا ہوں اور اگر میں 3 مختلف

labs

کو

dna

بھیجوں جن میں سے دو غلط ہوں تب اور کیا میں نہیں جانتا کہ میرا ذہن مسلسل پڑھا جارہا ہے اس وقت بھی کہ جب میں لکھ رہا ہوں کوئی

geostationary satellite

  سواتین کروڑ کی لاگت سے اس لئے اڑائی گئی تھی تاکہ مجھ پہ مسلسل نظر رکھ سکے اور ممکن ہے کہ اتنا خرچہ نہ آتا ہو یا ستارے ہی سیٹلائٹس ہوں میں ایجنٹ آئن سٹائن سے پوچھتا ہوں اور تب میرے باپ کی روح مجھے تاسف سے دیکھتی ہے لیکن میں نہیں دیکھتا کیا واقعی میں نہیں دیکھتا اور پھر میں نے ورجن سے کہا مجھے تمھیں ایک بار اور دیکھنا ہے اور اس نے کہا اِس کی قیمت ایک آنکھ ہے اور پھر وہ

legend

پہ عمل کرنا بھول گئی اور میں اندھا ہی رہ گیا۔ اور میں نے کہا مجھے جَو کی روٹی اور لوہے کا کلہاڑا چاہئے لیکن جل پری مجھے سونے سے نوازنے پہ مصر تھی تو کیا میں حوض  میں چھلانگ لگا کے خودکشی کرلیتا۔ بیٹا، تمھارے ذہن میں جو سوال اٹھ رہے ہیں اس کےلئے مندرجہ ذیل نمر پہ رابطہ کرو اور اگر وہ میرا ہی نمر ہو تب؟ اور جب میں جاگا تو مجھے یاد آیا کہ میں ہر روز وہیں جانے کی تیاری کرتا ہوں لیکن میں سوال نہیں کرتا مجھے کسی چیز کا جواب نہیں چاہئے اور پھر بھی میں تیاری کرتا ہوں۔ اور کل دوبارہ یاجوج ماجوج کو دیوار مسح کرنا پڑے گی اور اگلے روز اور اگلے روز لیکن میری اگائی کافی میں کیفین کی مقدار کم… میری اگائی؟ اور جب سب کچھ میری منشاء کے مؤجب یا مخالف ہورہا ہو تو ایک قدم آگے بڑھا کے یہ کیوں نہ

claim

کیا جائے کہ                 ؎ جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کےلئے اور جب میں دروازہ کھول کے باہر نکلنے والا تھا تو مجھے ٹھٹک کے رکنا پڑا میں نانگاپربت پہ رہنے والا

yeti

ہوں یا

snow leopard

نہیں لیکن میرا اگلا قدم مجھے

Gracchus

بنا دیتا اور میں واپس اپنے گھر میں آگرا  اور خواب میں مَیں نے دیکھا کہ وہ میری بن گئی ہے لیکن میسج آیا کہ خواب مت دیکھو اور میں ہڑبڑا کے جاگ گیا اور یہ دراصل

R.E.M

تھا سو مجھے دوبارہ ہاتھ پاؤں مارنے پڑے لیکن

Incubus

کا گانا بجتا رہا،أ

Dig?

اور وہ

D.I.G

تھی اور کھلونا پستول سے مجھ پہ فائر کررہی تھی پانی جس کو میں

mm

میں ماپ رہا تھا اور ایک پھوار میری آنکھوں پہ آلگی۔ میں نے کیٹ آئی سے باہر دیکھا سب نارمل تھا۔ کوئی نیولا میرے کسی رشتہ دار پہ اِس لئے حملہ آور نہیں ہونے والا تھا کہ میں نے یاھو! پہ سرچ کیا تھا۔ لیکن سب نارمل کیسے، کہیں کوئی کھمبا گرا ہوگا جس کو کوئی بلی نوچ رہی ہوگی اور چوں کہ میں نے یہ لکھا ہے اس لئے ضرور ایسا ہی اس وقت ہورہا ہوگا اور وہ بلی مجھے بددعائیں دےرہی ہوگی۔ تب میں بغیر تیاری کئے نکل پڑا کہ امتحان میں پاس ہونے کےلئے اس  کی ضرورت نہیں جیسے ایک تھا ٹائیگر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں نے کوئی محنت نہیں کی اور لوگ میری تعریف کررہے ہیں اور بلی نے اتنی محنت کی اور اس کی بھی لوگ تعریف کررہے ہیں اور تعریف کرنے والے دشمن سے بچنا چاہئے کیونکہ وہ آپ کو کلین بولڈ کرنے کے درپے ہوتا ہے۔ اور میں وہاں پہنچا تو کوئی نہ تھا جیسے مالک نے ملازم بھیجا تھا اور وہ بغیر ٹیکسی کے آیا تھا کہ کوئی بھی خالی نہ تھی۔ میں لوٹنے والا تھا لیکن مجھے اشارہ کرنے والا اچانک میرے سامنے آگیا اس نے سیاہ

Zentai

پہنا ہوا تھا، میں اس کو دیکھ کے اول فول بکنے لگا۔ لیکن مجھے اپنی آواز سنائی نہیں دےرہی تھی اسی لئے مجھے پڑوسن کی بات سنائی نہیں دی تھی  110 ڈیسی بل  ۔ اس نے میرے کان میں انگلی ڈالی اور کھجلی کرنے لگا۔ بس بس میں چیخا تاکہ غلطی سے کچھ سن سکوں لیکن مجھے صاف سنائی دے رہا تھا۔

Repeat۔

دوبارہ چیخنے کی کیا ضرورت تھی۔ مزہ آتا ہے۔ اس نے مجھے اپنا کارڈ تھمایا۔ اس پہ میرا نام و نمر درج تھے اور بس۔ سو بتاؤ، تمھارا کیا سوال ہے؟ میرا کوئی سوال نہیں۔ تو تم مجھ سے میرا کارڈ لینے آئے تھے، شب بخیر۔ رُکو۔ وہ رک گیا۔ یہ تم نے زنانہ ھیل کیوں پہن رکھے ہیں؟ میرے پاؤں میں درد ہے، ڈاکٹر نے ھیل پہننے کا مشورہ دیا۔ کیا؟ کیا کیا؟ کیا میں اندر آسکتا ہوں۔ یہ تمام علاقہ میرا ہے۔ اس نےہاتھوں سے اشارہ کیا۔ سمندر؟ ہاں، چائے؟ پانی۔

H2O

اچھی چوائس ہے اس سے

cramps

کم ہوجاتے ہیں۔ بیٹھو۔ زمین پہ۔ ہاں۔ یہ لو۔ گرم ہے۔ اسی کو امرت سمجھ کے پی جاؤ۔ کیا تم میرے خواب جانتے ہو؟ ہاں۔ کیا تم میرے سوال جانتے ہو؟ ہاں۔ تب؟ تب کیا؟ میں تم سے سوال کیوں کروں۔ تاکہ تمھارا بوجھ ہلکا ہوجائے۔ بس؟ ہاں، میں تمھیں جج نہیں کروں گا، تم سے سچی جھوٹی

sympathy

نہیں جتلاؤں گا، صرف سنوں گا، میں تمھاری کہانی کا قاری نہیں جو کسی

mystery

کو

unravel

ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ اور حل؟ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ میں تمھارا مسئلہ حل کروں گا میرے پاس کوئی

yellow pill

نہیں ہے محض

placebo۔

شب بخیر۔ لیکن…؟ ہاں؟ تو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کیا کہنے والا تھا۔ ہاں۔ تب سوال کیوں۔ میں تمھارے منہ سے سننا چاہتا تھا۔ کیا؟ جو تم اب کبھی نہیں کہہ پاؤ گے۔ یہ وقت کا کیا چکر ہے؟ کیسا چکر؟ جب میں گھر سے نکلا تھا تو صبح تھی میں چند قدم چلا تو شام ہوگئی۔ کیا تمھیں یقین ہے کہ تم چند قدم چلے تھے۔ کیا مطلب؟ یہ تمھارا ہی گھر ہے۔ کیسے؟ یہ تمھارے نام پہ تمھارے باپ نے چھوڑا تھا۔ نہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے گھر سے چلوں اور اپنے گھر آپہنچوں۔ اور۔ اِس کا جواب نہیں دو گے۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن تم سب جانتے ہو۔ الف/اے سے لے کے ی/زیڈ تک جان لینے سے یہ معلوم نہیں ہوجاتا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ لیکن بنا تو سکتے ہو۔ ہاں،

ے/&۔

لیکن مجھے مستقبل کا کیسے پتا چل جاتا ہے؟ پیشگوئی کرو۔ نہیں کرسکتا۔ تو۔ میں کچھ کہتا ہوں یا لکھتا ہوں، وہ ہوجاتا ہے۔ لکھو کہ آج کے بعد تمھیں اشارے ملنا بند ہوجائیں۔ اور ہوجائیں گے؟ نہیں۔ سو میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن جو ہونا ہوتا ہے اس کے متعلق اشارہ مل جاتا ہے۔ ہمیشہ؟ نہیں۔ کیا تمھیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہونے والا ہے؟ نہیں۔ اور یہ ہندسے اور حروف۔ یہ روٹی کے دو ٹکڑے کردیے، اب میرے پاس کتنی روٹیاں ہیں۔ دو۔ اور یہ مزید 2،2 ٹکڑےکردیے۔ اب چار۔ سو ایک میں سب پوشیدہ ہے۔ اور میری کہانیاں جو اور اسٹیج پہ کھیلتے ہیں۔

IP

  کے تحت مقدمہ کرو۔ یہ تو تم نے حل بتا دیا۔ کیا واقعی! تم نے کہا تھا تم جج نہیں کرو گے۔ تم چاہتے ہو۔ میں چلتا ہوں۔ شب بخیر۔ لیکن تم نے کہا تھا کہ یہ میرا گھر ہے۔ یہ تمھارے ہی نام پہ ہے۔ تو۔ میں چلتا ہوں۔ اور وہ چلا گیا۔ کھلی کھڑکی سے میرا پھینکا ہوا پوسٹر اڑ کے آیا اور میرے قدموں میں گر گیا

—recycle

کرنا اچھی بات ہے۔ میں نے پانی کی بوتل میں اپنی شبیہ دیکھی، میں نے

Zentai

پہنا ہوا تھا۔ رات ایک ڈرے ہوئے تنہا

jester

کی عشقیہ داستان پہ ہنس رہی تھی۔                 (ماخوذ)

Featured

مسافر

Photo by Lisa on Pexels.com

ہمارے سامنے عمومی طور پہ کسی شے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ مثلاً، الہامی کتب میں جنت اور دوزخ گناہ و ثواب وغیرہ۔ یہ ہم پہ ہوتا ہے کہ ہم گاجر کھانا پسند کرتے ہیں یا ڈنڈا۔

کچھ لوگ چاہے مذہب ان کا کوئی بھی ہو، ان کی الہامی کتاب مکمل حالت میں یکایک آسمان سے  اتر کےان کے ہاتھوں میں آجاتی ہے۔ ایسے لوگ پہلے ہی قدم پہ تکمیل چاہتے ہیں۔ اب اگر ایک ہی قدم ہو تو سو فیصد مکمل کرنا چنداں مشکل نہیں۔ یہ

Achilles

نے قدم اٹھایا اور کچھوے کا کچومر نکال دیا۔ لیکن رب تک نے کائنات چھ دن میں بنائی۔ الہامی کتب برسوں میں تکمیل سے آشنا ہوئیں۔

یقیناً، رب کےلئے کن کہنے کی ضرورت نہیں، لیکن رب کا مقصد ہمیں سمجھانا ہے کہ کرو تو ہوگا۔ ہم میں سے کچھ خاص کر میڈیا والے خود کچھ نہیں کرتے، سیاست دانوں کو بلا کے انھیں ایک دوسرے کے زبانوں بےعزت کرتے ہیں۔

جیسے ایک سیاست دان نے

ARY

کے وسیم بادامی کو جواب پکڑایا تھا، کراچی کے سیورج سسٹم ٹھیک کرنے کےلئے اےآروائی گولڈ کیوں استعمال نہیں کرتا۔ بس یہی فلسفہ ہے جو میڈیا والوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا کیونکہ اگر ہم

Utopia

میں رہنے لگے تو میڈیا کون دیکھے گا۔

پھر میڈیا میں سے جو سچ کہنے کی جرأت کرتے ہیں ان کی زبان بندی کرنے والوں کے حق میں بھی یوٹوپیا انتہائی ناموافق ہے۔ ان کو مکھیوں کے سوا کس کی جاسوسی اور کس کے خلاف تیس مارخان بننے کا موقع ملے گا۔ پھر اگر میڈیا کوئی نہ دیکھے گا اور 14 اگست اور 26 جنوری نہیں منائے جائیں گے تو بےچاری اشتہاری کمپنیاں کس دوزخ[1] کا رخ کریں گی۔ اھل وطن کو عید مبارک کہنے کا شوق کیسے پورا ہوگا کیا جعلی نوٹ چھاپ کے؟

ایک اسکول نے دیوار پہ لکھوا رکھا تھا، جس نے استاد کے بجائے کتاب سے علم حاصل کیا اس نے ناکامی کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ دیا۔ سب سے پہلے تو یہ اپنے منہ میاں مٹھو والی بات ہوگئی۔ ضرور اسکول کی انتظامیہ کو یہ سبق کسی اشتہاری کمپنی کے استاد نے پڑھایا ہوگا۔

اِس کے برعکس، اگر یہ بات میں آپ کرتے تو ہم اِس سے مطلب اخذ کرتے جو حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا: جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھا دیا وہ میرا استاد ہے۔ جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ سے متعلق روایت ہے کہ وہ ایک خاکروب کی بےحد عزت کرتے تھے کیونکہ اس خاکروب نے آپؒ کو ایک مسئلے کا حل بتایا تھا۔

اِس کے برعکس جب اسکول والے یہ قول درج فرمائیں تو وہ علم کو مدرسے کی تعلیم کی سطح پہ مقید کردیتے ہیں۔ کیا کسی جماعت میں اقراء کی وحی نازل ہوئی تھی۔ کیا ٹیکسٹ بک لکھنے والے محترم معلم نہیں ہوتے۔ کیا اسکول سے پڑھنے والے سبھی ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل بنتے ہیں ان میں سے کوئی چور اچکا نہیں بنتا۔

ایڈیسن اور ٹیسلا جن کے بلب رات رات بھر استعمال کرکے لوگ ڈاکٹر بن رہے ہیں، انھوں نے کس استاد سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انسان کی اپنی قابلیت اور قسمت کچھ نہیں، بس کمرۂ جماعت میں پارس کے پتھر المعروف بہ استاد نے چھو لیا اور لو جی انسان ساتویں آسمان پہ پہنچ گیا۔

پھر کامیابی کیا ہے۔ میرے کئی ہم جماعت تعلیم میں مجھ سے بےتحاشہ پیچھے تھے آج وہ مجھ سے زیادہ رزقِ حلال کما رہے ہیں۔ لیکن– جیسے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج صاحب نے فرمایا – کیا پرافٹ ہی سب کچھ ہے۔

کیا صرف اقبال کا مقالہ ان کی شناخت بنالی جائے جس پہ انھیں ڈگری ملی تھی یا کہ بالِ جبریل جس نے انھیں قومی شاعر بنا دیا، بھی اہمیت کی حامل ہے؟ یوسفی صاحب کی زرگزشت کے ایک کردار کی مانند جو ملکہ الزبتھ دوم کو دیوی سمان سمجھتا تھا، ہم سے اقبال کی نظم ___ کی گود میں بلی دیکھ کے برداشت نہیں ہوتی۔ ہم کو شکستہ آئینے کی اہمیت کا فلسفہ سمجھ نہیں آتا۔ ہمیں پرفیکٹ بننا ہے جیسے اسکول کی عمارت اور وہ بھی راتوں رات گویا الہٰ دین کا جن …۔

معجزہ خال خال ہو تو خدا کی یاد قائم  رہتی ہے۔ روز روز معجزہ ہو تو انسان کا اپنے زورِ بازو سے ایمان اٹھ جاتا ہے جو خود خدا کے اس قول کے منافی ہے کہ رب نہیں بدلتا حالت جب تک انسانیت اپنی حالتِ قلب آپ نہ بدلے۔[2] ہر کوئی حضرت خضرؑ بن جائے توعام انسان پیدا کرنے کی کبھی ضرورت  پیش نہ آتی۔ احد وچوں  میم ضرور رلایا لیکن اِس کا مقصد انسان کو خود پہ بھروسا کرنا سکھانا تھا۔ جیسے ماں آغاذ میں پالتی پوستی ہے   پھر بچے کو آہستہ آہستہ دنیا سے خود نمٹنے کا موقع دیتی ہے، ویسے ہی ستر ماؤوں سے زیادہ انسان سے پیار کرنے والے نے میم کو البدر جیتایا۔  قدم لڑکھڑائے تو سہارا دیا۔ آخری فتح دی۔

یہ کہنا کہ انسان قطعی آزاد ہے، غلط ہے۔ لیکن، بہرحال، قواعد کے اندر آزادی ضرور ہے۔ نماز کا ایک خاص طریقہ ہے، جس میں کچھ اونچ نیچ ہو جاتی ہے۔ لیکن اس طریقے میں بھی یہی راز نہاں ہے۔ رب چاہتا تو ہر وقت یکساں رکعت کی حامل نماز ہوتی۔ پھر، نماز میں سورتیں بدل بدل کے پڑھنے کے پیچھے ایک  حکمت یہ بھی ہے کہ انسان روبوٹ کی مانند نماز نہ پڑھے، اسے تھوڑی آزادی حاصل رہے۔ حفاظِ قرآن کے پاس مجھ ایسوں سے کہیں زیادہ وسیع تر انتخاب دستیاب ہے۔ عام زندگی میں بھی کچھ لوگ زیادہ آزادی سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ سرما میں دارالخلافہ ادھر، گرما میں ادھر۔ جبکہ کچھ تمام زندگی ایک چھوٹے سے قصبے میں گزار لیتے ہیں۔

یکسانیت ٹھہرے پانی کی مانند ہے جس میں اگرچہ کنول کھل  اٹھتے ہیں لیکن ناپاکی سے مفر ممکن نہیں۔ کسی زمانے میں من و سلویٰ انسانی ضرورت کے معراج ضرور رہے ہونگے لیکن بعد کی امتیں ضروری نہیں کہ بدھ کی مانند ہمیشہ چاول کھا کھا کے گزارا کریں۔ اِس پیرائے میں کچھ لوگ مرد کےلئے چار شادیوں کی اجازت بھی شامل کرنا چاہیں گے۔ لیکن دین کی بنیادی باتیں مرد اور عورت دونوں کےلئے ہوتی ہیں۔ دراصل، بظاہر انسان ایک رہتا ہے لیکن وہ ارتقاء کے عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ (کچھ اسی ارتقاء کو مختلف جانداروں کے درمیان ربط کی صورت دینے پہ تلے ہیں۔) یہ ارتقاء ذہنی و جسمانی دونوں صورتوں میں رو بہ عمل رہتا ہے۔ پس میاں بیوی ایک دوسرے کےلئے یکسانیت کے مترادف نہیں ہوتے۔ البتہ جن کی خواہشات زیادہ ہوں وہ چار بیویوں سے بھی نا آسودہ رہتے ہیں۔

زندگی عمارت نہیں۔ نہ کعبہ[3] نہ ہی روشنی کے مینار کہ بنیاد ٹیڑھی ہوگئی تو سب مٹی پلید ہوگیا۔ زندگی جہدِ مسلسل، ایک سفر ہے، جہاں آغاذ غلط ہو تو ضروری نہیں انجام بھی خراب ہوگا۔

کچھ کہیں گے زندگی عمارت ہی ہے جیسا کہ رب نے کہا ہے کچھ لوگوں سے متعلق جن کے قلب میں مرض ہے جو ہٹائے نہیں ہٹتا۔ [4]ایک بار یہ روگ لگ جائے تو سب ختم۔ جبکہ کچھ کہیں گے کہ آغاذ میں زادِ راہ نہ ہو یا رکھنے سے رہ گیا ہو تو بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ پس زندگی چاہے عمارت ہو کہ سفر، ایک ہی مثل ہے۔

جہاں تک زادِ راہ کا سوال ہے تو انسان بیچ راستے میں مزدوری کرکے نیا پار لگا سکتا ہے۔ بات خواہشات کی ہے، اگر کم ہوں تو کچھ زادِ راہ میں گزارا ہو جائے گا۔ نہیں تو آغاذ میں قارون کا خزانہ ہو، ابلیس جتنی عبادت ہو، آخر میں کچھ نہیں بچتا۔

پھر جہاں تک مرض کا تعلق ہے تو اس کو بھی سفر کے پیرائے میں برتا جاسکتا ہے۔ جس کے قلب میں روگ ہوگا وہ چلتی گاڑی سے اس آخری وقت میں بھی بغیر بسم اللہ پڑھے نکلنے کی کوشش نہیں کرے گا جب اسے معلوم ہو کہ گاڑی کے بریک فیل ہیں اور سامنے کنکریٹ کی دیوار ہے۔ یہ کچھ نوحؑ کے نافرمان بیٹے سے ملتی جلتی بات ہوگئی۔ جبکہ بغیر بسم اللہ سے سورۃتوبہ کی جانب اشارہ مقصود ہے۔ درحقیقت درِ توبہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ تاآنکہ گھڑی گجر نہ بجا دے۔ پس آج کا نیک کام کل پہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔

اچھا، سورۃ فاتحہ اور درِ توبہ سے دوبارہ عمارت کی طرف دھیان جاتا ہے۔ لیکن کچھ دروازے آرائشی ہوتے ہیں جیسے بابِ خیبر۔ کچھ وقتی ہوتے ہیں جو اس وقت لگائے جاتے ہیں جب کوئی حاجی صاحب حج سے لوٹیں۔ کچھ پہ معلومات درج ہوتی ہیں مثلاً فلاں فلاں شہر اِس اِس جانب اتنے اتنے میل کے فاصلے پہ ہیں۔ ایسے دروازے بھی کسی حد تک تفریق پیدا کرتے ہیں، لیکن مسافر کو محبوس نہیں کرتے۔

کچھ یہی صورتحال انسانی معاشرے میں معیارِ اجتماعی، عدالتی قوانین، اور سماوی قانون کی ہے۔ اکثر و بیشتر ہم اولالذکر کے چنگل میں پھنسے ہوتے ہیں، لیکن اعتراض ہم مؤخر الذکر پہ کر رہے ہوتے ہیں۔ عدالتی قوانین عمومی طور پہ باقی دو کے درمیان میں آتے ہیں، اور کسی حد تک ذاتی عوامل میں باقی دو سے زیادہ آزاد روش پہ مبنی ہوتے ہیں۔   مثلاً

6             2006     Adventure, Khi                اباسین     شہناز شورو

میں عدالت ممکن ہے ملکی قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ماں کو حمل گرانے کی اجازت دے دے، جبکہ بھارتی قوانین کے ماتحت

6             2004     Adventure, Khi                چل خسرو گھر اپنے  ذکیہ مشہدی

کی مونی کو اپنے سابقہ دیور سے شادی پہ کوئی قدغن نہیں ہوگی۔[5]  لیکن معیارِ اجتماعی آڑے آجاتا ہے۔ اور انفرادی خوشی اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں (ہم پہ شک نہ کریں) آخر ہم نے خدا کو بھی منہ دکھانا ہے۔ نیت کا حال رب ہی خوب جانتا ہے لیکن یہ کہنے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ خدا کو حاضر ناظر جانتے ہیں اور موت کو یاد رکھتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کا بھی ارشاد ہے کہ موت کو یاد رکھو لیکن موت کی خواہش نہ کرو۔[6]

کچھ لوگ موت یاد رکھیں نہ رکھیں، موت کی خواہش، فنا کی آرزو ضرور رکھتے ہیں۔ پھر کچھ کا فرمانا ہے: آخر کو موت ہے۔ اِس سے دو مطلب اخذ کئے جاسکتے ہیں:

ہم کو ڈر ڈر کے نہیں جینا چاہئے؛ اور،

ہمیں اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کہ انجام کار موت ہے۔

دونوں معنی مسائل پیدا کرتے ہیں:

اولالذکر سے انسان برائی، کم از کم شرارت کی جانب مائل ہوسکتا ہے۔ رزقِ حلال کمانے کے بجائے شارٹ کٹ کے چکر میں رشوت ستانی، کم از کم درختوں سے پرندوں کے انڈے چرانے لگ سکتا ہے۔ ان چکروں میں اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی اجیرن کرسکتا ہے۔ جبکہ

مؤخرالذکر کے باعث رزقِ حلال کمانا ایک طرف،انسان کچھ بھی کرنے سے لاچار رہتا ہے۔ امیر تھا، یہ فلسفہ دماغ پہ چھایا اور کاروبار سے جی اچاٹ ہو گیا۔ نقصان پہ نقصان ہوتا رہا۔ آخر کو موت فاقوں کے ہاتھوں ہوئی۔ غریب تھا، یہ خناس قلب میں سمایا اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہ گیا۔

اِس کے برعکس، جب کاروبار کیا جاتا ہے تو حرکت ہوتی ہے۔ لیکن یہ حرکت درست پیرائے میں ہو۔ نہیں تو معمر قذافی کی مانند 1994 میں الصین کو فتح مندی کی نیک خواہشات پہنچائیں گے، لیکن لیبیا کے عوام کو مٹھی میں بند تھامے رکھیں گے۔ پھر آخر کو موت ہے ضرور لیکن موت آپ کی عوام کی جانب سے بیچ چوراہے میں نہیں آنی چاہئے۔[7]

خدا لوگوں کو خوابِ قابوص میں ہاتھ پیر مارنے اور سانس لینے میں آسانی پیدا کرے۔

مئی تا جون 2021


[1] 10         2005       Adventure, KHI     بحالی        برائن کلیو

(The Devil & Democracy by Brian Cleeve, 11.1966)

[2] سورۃ الراعد: ۱۱۔ یاد رہے کہ جہاں آسمانی بجلی (الراعد) خوف کا باعث ہے، وہیں زمین کو نائٹروجن فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ لیکن بیج ہو تبھی نائٹروجن پودا اگنے میں مددگار ہوگا۔ پس انسان اپنے دل میں بیج بوئے تو مددِ خدا پا جائے گا۔

[3] پانچ برس قبل وادیٔ الفت کی جانب سفر میں وین کے ڈرائیور نے طارق جمیل صاحب کے بیان کا کیسٹ لگایا تھا۔ ان کا فرمانا ہے کہ انسان خانۂ کعبہ سے زیادہ باعث احترام اور تقدیس کا حامل ہے۔ میری پھوپھی کو یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ حالانکہ، سورہ البقرہ آیت ۱۷۷ میں رب کا ارشاد ہے کہ اہمیت اِس کی نہیں کہ تم مشرق کی جانب رخ کرکے عبادت کرتے ہو یا مغرب کی جانب۔ اہمیت رب پہ یقین کی ہے۔ (رب پہ انسان ہی یقین رکھ سکتا ہے، عمارت نے نہیں رکھنا۔)

[4] مثلاً: سورۃ البقرۃ، آیت ۶ تا ۲۰

[5] چونکہ کہانی کی اصل تاریخِ اشاعت معلوم نہیں، اِس لئے ممکن ہے کہ تب کے قانون کے مطابق ایسا کرنے کی اجازت نہ ہو۔

[6] یاداشت سے لکھا ہے، سہو ہو تو معذرت۔

[7] قذافی کے ساتھ جو ہوا وہ بہرحال انصاف کے تقاضوں کے برخلاف تھا۔

Featured

بال و پر

ڈاکٹر انور سجاد، بال و پر سے متاثر

مولوی صاحب اِس ناہنجار کا جنازہ نہ پڑھائیں۔ کیوں بھلا؟ موسیقی کی کمائی کھاتا تھا، موسیقی اوڑھنا بچھونا تھا، موسیقی …۔ مجھے قطع رحمی کا سبق نہ پڑھائیں؛ وہ سبھی کو معاف کردیتا ہے لیکن ناتے توڑنے والوں کو معافی نہیں ملتی۔

جنازہ پڑھانے کے بعد مولوی صاحب نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک ماسک پہنے شخص کو بزدل قرار دے رہے تھے۔ میرے عزیزو! میں نے ابھی جن صاحب کا جنازہ پڑھایا وہ کورونا وائرس کے ہاتھوں وفات پائے تھے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ماسک پہننے کے باعث وہ بچ جاتے کہ زندگی موت رب کے ہاتھ میں ہے، لیکن احتیاط ہم پہ لازم ہے۔ پھر چہرے پہ کپڑا ڈالنا کوئی غیرشرعی عمل تو نہیں۔ یہ واقعہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک بار نبی کریم ﷺ چہرہ مبارک  کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ سمجھے کہ آپؐ سو رہے ہیں، اِس لئے انھوں نے بچوں کو شور کرنے سے منع کردیا۔ اِس پہ نبی کریم ﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھا کے انھیں مخاطب کیا کہ وہ بچوں کو نہ روکیں۔ یاد رہے، ہمیں زندگی کی حرکت اور حرارت سے نہیں، موت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جیتے جی بےحس ہوجانا، اوروں پہ ظلم کرنا، خود بھی ظلم سہنا، دوسروں کو ظلم کرتے دیکھنا موت سے بدتر نہیں تو کیا ہے؟ لیکن انسان کو بہت تیزی سے بھی بچنا چاہئے، گرنے کا احتمال رہتا ہے، اور زیادہ اونچائی انسان کو غرور میں مبتلا کردیتی ہے۔ اوروں کو ہیچ نظروں سے دیکھنا لگتا ہے۔ چلو، اب اِن سے معافی طلب کرلیں۔

عشاء کی نماز پڑھانے کے بعد مولوی صاحب نے وہاں آئے نمازیوں سے فرمایا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عورتوں کو ہمارے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے۔ بیبیوں کو آرام اور اطمینان سے گھر میں نماز پڑھنی چاہئے۔ البتہ بہت سے لکھنے والے جب نماز کی خوبیاں بیان کرنے لگتے ہیں تو وہ صرف ظاہری فوائد پہ زور دیتے ہیں یعنی کون مومن ہے کون منافق ہے، جس کا گمان جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر اور کسی طور حاصل نہیں ہوسکتا۔ ان کا بیان اِس انداز کا ہوتا ہے گویا صرف مردوں کےلئے ہی رب نے نماز کا سلسلہ جاری کیا اور خواتین کی نماز خدا نخواستہ کوئی کم درجے کی عبادت ہے۔

حالانکہ، نماز روحانی لحاظ سے دیکھیں تو ایک مکمل دعا ہے۔ جب کہ اس کے کچھ اور پہلو بھی ہیں۔ میر صاحب چارہ ڈال رہے تھے۔ اذان ہوئی تو سب کام چھوڑ کے وضو کرکے مسجد تشریف لے آئے۔ کیوں میر صاحب ٹھیک کہہ رہا ہوں نا۔ بےشک۔ ان کی بیگم صاحبہ برتن دھو رہی ہوں گی، وہ بھی نماز کی تیاری میں مشغول ہوگئیں۔ ایسے کتنے صاحبان اور بیگمات ہیں جو زندگی کی تیزی اور روانی سے کچھ دیر غافل ہوگئے تاکہ اللہ کی یاد تازہ کی جاسکے۔ دراصل، جب ہم بہت تیز بھاگ رہے ہوتے ہیں تو باربار راستے میں کانٹے پتھر سے الجھنا پڑتا ہے۔ خرگوش کے بجائے اگر ہم کچھوے کی مثال سامنے رکھیں تو سہولت سے منزل پہ پہنچ جائیں۔ لیکن رکنا نہیں ہے، زندگی چلتے رہنے کا نام ہے۔ یہاں تک کہ نماز میں بھی حرکت ہوتی ہے لیکن اس حرکت میں جو برکت ہے وہ اور کہیں نہیں۔

پھر اگرچہ میں چاہوں گا کہ میری طرح آپ بھی مسلسل مسجد میں رہیں، یہاں کی برکات سے فیض یاب ہو سکیں، لیکن نماز پڑھنے کے بعد زمین میں پھیل جانے کا حکم ہے، تاکہ ہم سُن ہو کے نہ رہ جائیں۔ میر صاحب چارہ ڈالیں، ان کی بیگم برتن دھوئیں۔ جب حرکت ہوتی ہے تو شور ہوتا ہے،برتن ٹوٹنے کی آواز آتی ہے اور کچھ نہیں تو سرسراہٹ سی ہوتی ہے۔ زیادہ شور یقیناً سمع خراش ہوتا ہے لیکن ہم لوگ ذرا سے شور سے گھبرا جاتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ زندگی شور کا نام ہے، خاموشی تو قبروں کا خاصا ہے، اسی کےلئے اٹھا رکھتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

May 2021

Featured

بلاعنوان

چلو پھر آج اپنے دائیں ہاتھ سے

تھام لیتے ہیں اپنے بائیں ہاتھ کو

کسی پتھر کو رنگ کے

اس پہ

تمھارا نام لکھ لیتے ہیں

اور اس کو سینے سے

لگا لیتے ہیں

اس سبز توتے میں

اپنی جان رکھ چھوڑتے ہیں

چلو پھر آج عشقِ خدا کے پردے میں

تم سے محبت نبھاتے ہیں

کعبے کی دیواروں سے سر ٹکراتے ہیں

سعیٔ رائیگاں کرتے ہیں

میری سورج

تمھاری روشنی کے بدلے

صرف تاریکی ہے پاس میرے

کہو کیا سودا منظور ہے

نہ جاؤ بازار میں عزت خراب ہوگی

سنا ہے شہر میں مؔیر سے بےوقوف بھی ہیں

اور دیوانوں کے پیچھے پتھر پکڑ کے بھاگنے والے

کچھ بزعم خود عقلمند بھی ہیں

جواب آں غزل

کہا کس نے           آئے گا وہ وقت بھی

کہ جواب بھی دیں گے

اور حساب بھی لیں گے

کہا میں نے           گر جواب و حساب

خدا کے ہاتھ میں ہو

جو دوزخ بھی دے قبول ہے

مخلوق کے ہاتھ میں ہو

تو جنّت بھی آنکھ کی دھول ہے

اور معلوم ہوسکتا ہے اسکو کیسے

جس نے زندگی بھر دھوکہ دیا ہو

کہ لوگ اپنے پیچھے نیکی کے تن آور

درخت بھی چھوڑ جاتے ہیں

نام تو شاخ کا آپ نے معاذ رکھ دیا

پر کیا اس پہ بسیرا کرنے والے

عقاب بن سکیں گے

2019

Featured

زما قصہ پخوانی

آؤ کسی موٹرگاڑی کسی یکّے کی سواری کرتے ہیں
خدا کا نور بن جانا
اے ساقی، مَے بن جانا
انار بن جانا
کبھی مجھے واپس نہ آنے دینا، اے جاناں
کل کائنات بن جانا
 
مجھ پہ حاوی ہو جانا
بن جانا Himalayas
ہر جگہ اجالا کر جانا
میرا سر جھکا جانا
 
 
مجھ کو سلطنتِ خرد سے ملک بدر کر جانا
بیلی بن جانا
مجھ بےگانے کی مھار بن جانا
 
 
 
تو مجھ کو تھپکی مار کے جگا جانا
میرے خیالوں میں سہی اپنی بزم سجا جانا
میری آس بن جانا
 
 
 
میری دوست میری سَکھی ساتھی بن جانا
 
 
 
جلاد بن جانا
 
سزا بن جانا
طوفان میں اڑا جانا
 
دارالامان و سلامتی بن جانا
 
 
 
تم لیمپ بن جانا
تم لَے بن جانا
تم سیب بن جانا
کبھی مجھے جنّت سے نکالنا
تم میرے لئے کافی بن جانا
تم گران دے بن جانا
تم موحاوے بن جانا
تم آسٹن بن جانا
کا مینارہ بن جانا Isabel تم
بن جانا Yucca تم
تم عقاب بن جانا
تم سیتل چندا بن جانا
تم بدر بن جانا
تم آکاس بن جانا
 
تم کمھارن بن جانا
تم ماہی بن جانا
مجھ کو الگنی پہ الٹا لٹکا دے، جاناں
عرصے سے سویا نہ تھا
میں نے ابھی اور کچھ دیر اور دیکھنا ہے
تم انتظار بن جانا
تم برکھا بس مجھ پہ برس جانا
تم پھول بن جانا
تم گلاب اور خوشبو بن جانا
تم رنگ بن جانا
لللّٰہ واپس آجانا boomerang تم
تم میر بن جانا
تم تیر بن جانا
تم قاتل بن جانا
تم سدا بن جانا
سکون بن جانا
تم پریتم بگولہ بن جانا
تم آسرا بن جانا
تم گھر بن جانا
تم فسوں بن جانا
تم التمت بالخیر بن جانا
تم معظمؔ بن جانا
میں عینک بنتا ہوں
میں عشق بنتا ہوں
میں ظروف پرانے پیتل کے
 
میں سبز چائے ہوں
میں اباسین بنتا ہوں
میں پیاسا ہو کے بھی تھر ہوں
میں گاڈون
میں آکرہ کا ٹیلہ
میں دیودار
میں مارخور
میں چکور ہوں
میں ہلال ہوں
میں آکاس بیل ہوں
 
میں ماٹی ہوں
میں تڑپتی مچھلی ہوں
میں درد ہوں
 
 
میں تمھارا منتظر
تمھارے لئے صدیوں سے ترسا ہوا ہوں
میں کاغذ
میں چنبیلی
میں مہندی
میں کٹی پتنگ
میں پلٹون
میں گھائل
میں مقتول
میں صدا
 
میں بےپر
میں خلیج
میں مسافر بنتا ہوں
میں فسانہ
میں آغاذ
میں م

نومبر 2020

Featured

خیراندیش سیریز ناول نمبر نو

کردار و واقعات غیرفرضی؛ حقیقت سے ہر قسم کی مطابقت کا ادارہ ذمہ دار نہ ہوگا۔ شکریہ

اگلے روز خان صاحب نے فرمایا کہ غربت کے سمندر کے بیچ امارت کے جزیرے نہیں پائے جاسکتے۔ یہ کہہ کے وہ ہتھوڑی چھینی لئے بنی گالا سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے والے تھے کہ ایک عدد خیراندیش نے انھیں روک لیا۔ خیراندیش کے متعلق انتہائی بےوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چودھری صاحب تھے۔ ہم نے سوچا ہو نہ ہو مٹی پاؤ برادران میں سے ہوں گے لیکن وہ تو بنی گالا کو مٹی تلے کرنے کے خفیہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ نظرِ کرم پھر فواد چودھری پہ پڑی۔  فرض کئے لیتے ہیں کہ وہی تھے۔ انھوں نے خان صاحب سے کہا کہ بنی گالا کوئی جزیرے پہ تھوڑی ہے وہ تو براعظم غرب الہند کے آس پاس برائن لارا نے آپ کو تحفتًا دیا ہے، اور انھوں نے عدالت میں اِس بابت بیان خلفی بھی جمع کر رکھا ہے۔ خان صاحب ہتھوڑی چھینی پھینک، خیراندیش کے گلے لگ کے وہ زمانے یاد کرنے لگے جب مائیکل ہولڈنگ اکاؤنٹ میں ایک پائی نہیں تھی اور وہ چارپائی پہ بیٹھے محسن حسن خان کی خوش قسمتی پہ واویلہ کر رہے تھے۔

خیراندیش نے بہ مشکل ان کی جھپی سے آزادی حاصل کی اور انھیں ان درپردہ سازشوں – معافی کے خواستگار ہیں – بیک چینل ڈپلومیسی کا بتایا جس کے بنا پہ سوازی لینڈ سے لے کے سوئٹزرلینڈ تک کے تمام ممالک پاکستانیوں میں نوکریاں بانٹ رہے تھے۔ چندے کے طور پہ خیراندیش نے اپنے ملک میں بھی چند ہزار لوگوں کو نوکریاں دلوادی تھیں۔[1] ان سبھی نوکریوں کے حصول میں ظاہر ہے نوکری حاصل کرنے والوں کا اپنا کوئی کمال نہیں تھا۔ کمال کا سن کے چاہئے تو یہ تھا کہ خان صاحب کو رہبر ترقی کمال المعروف بہ مشرف بہ اسلام یاد آجاتے۔ لیکن انھیں کمال احمد رضوی اور الف نون یاد آگئے۔ نون سے نواز شریف کی طرف اشارہ انھیں جزبز کر گیا۔ خفگی سے بس اتنا کہا

Et tu Fawad?

خیراندیش نے کہا، نہیں جی میں روزے سے ہوں، کچھ نہیں کھایا۔ ایہہ تو کی کہہ ریا اے؟ آپ نے ہی پوچھا کہ فواد تو نے ایٹ کیا ہے؟ خان صاحب بےبسی سے دور زمین پہ پڑی ہتھوڑی کو ان نگاہوں سے دیکھنے لگے جیسے دشمن ہمیں دیکھتا ہے۔

خیراندیش نے دھیان بٹانے کو بتایا کہ ہم نے میڈیا مالکان کےلئے نئے گھر بنانے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ کوئی انتخاباتی وعدہ نہیں، ایسا ہم کر کے رہیں گے۔ خان صاحب آبدیدہ ہوگئے۔ اور عام صحافی، ان کےلئے کچھ نہیں کیا۔ انھیں عیدی ملنے کی نوید دی ہے۔ بس؟ آپ کہیں تو میڈیا مالکان ان کو اپنے بنگلوں میں سرونٹ کوارٹر میں جگہ دیں دیں گے۔ سچی، ایسا ہوسکتا ہے، خان صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔ ہم میڈیا مالکان کو ریاست خان کی دھمکی دیں گے تو فورًا مان جائیں گے۔ ایسا ہو جائے تو کہیں غربت کے سرونٹ کوارٹر کے درمیان امیر کا بنگلہ تو نہیں سین وچ ہو جائے گا؟اب کے خیراندیش چھینی کی طرف دیکھتے پائے گئے۔

ویسے یہ ایف آئی اے ابھی بھی ہماری داخلہ وزارت کے زیرِ تسلط ہے کہ ریاست خان اپنی بھینس سمجھ کے اسے بھی ہشکار لے گیا؟ کیا ہوا، جناب، کیا کوئی تھینک یو نوٹ آیا ہے؟ نہیں، نہیں، ادھر ہم فرہاد بنے جوئے شریں مزاری لا رہے ہیں ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہم پہ برہم کہ ہم صحافیوں کو سانس لینے کا موقع نہیں دے رہے۔ چکر کیا ہے۔  آپ تو جانتے ہیں سب فیک نیوز کا شاخسانہ ہے۔ فیک نیوز، یہ چینل تو میں بہت شوق سے دیکھتا ہوں، اسے دیکھ کے لگتا ہے ملک میں دودھ کی مزید نہریں نکالنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ وہ کورن فلیکس نیوز ہے، اسی لئے سبھی دودھ میں غوطہ زن ہیں، یہ میں پراپگنڈا کا بتا رہا ہوں۔ ہاں، پراپگنڈان انتہائی واہیات اخبار ہے، معلوم ہوتا ہے ملک میں کچھ صحیح ہو ہی نہیں سکتا۔  خیراندیش نے بہ مشکل خود کو درمیان کی راہ اختیار کرنے سے روکا مبادا خان صاحب کو پھر سمندر اور جزیرہ یاد آجاتے۔ چھوڑئے جناب، کیوں کوئی اپنے خیالات پراگندہ کرے۔ آپ ہیلی کاپٹر اڑائیے، باقی ہم پہ چھوڑ دیں۔


[1] سال، دو سال پیشتر آپ نے فرمایا تھا کہ عوام نوکری کے حصول کےلئے سرکار کی جانب نہ دیکھے۔ تب نئی سرکار کی موجیں تھیں، اب اگلے انتخابات کے انعقاد میں یا شیخ کی مانئے تو تھوڑا ہی عرصہ ہے؛ اب کے ان کی نگاہیں وزارتِ عظمیٰ پہ ہیں۔

Featured

چھوڑ دو

VII — 7 (2015)

میں ایک جگہ کھڑا تھا۔ میرے پیچھے ایک پیڑ تھا۔ میرے آنے سے پہلے سناٹا تھا۔ میں خاموش رہا۔ پھر وہ ٹوٹ گیا۔ سوال: تم کون ہو؟ جواب: جاندار۔ سوال: تم کیوں ہو؟ جواب: اس کی عبادت میری تخلیق کا باعث ہے۔ سوال: اور تمھارا خدا؟ جواب: میرا خدا وہ جو اس کا خدا۔ سوال: اس کا خدا کون ہے؟ جواب: وہ ہی جانے۔ سوال: وہ کون ہے؟ جواب: جسے میں گالیاں دیتا ہوں۔ سوال: کیوں؟ جواب: اسے میری ضرورت نہیں پر مجھے اس کی ضرورت ہے اس کی قربت اب بس یوں ہی پا سکتا ہوں۔ مجھے چھوڑ دو۔ سوال: تمھیں پکڑا کب ہے؟ جواب: ہاں میں پاگل ہوں میں نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوں۔ مجھے چھوڑ دو۔ سوال: تم کون ہو؟ جواب: تم پہ سلامتی ہو۔ مجھے چھوڑ دو۔ سوال: کیا بولے تم؟ جواب: تم پہ سلامتی ہو۔ مجھے چھوڑ دو۔ سوال: بتا، مُسلا ہے تُو؟ جواب: ہاں۔ مجھے چھوڑ دو۔ سوال: یار، ایویں ڈرا دیا۔ پہلے کیوں نہیں بولا کہ تُو مُسلا ہے؟ جواب: مجھے بھی ابھی خبر ہوئی۔ سائل: دعا کرو بادشاہُو! جواب: تم پہ سلامتی ہو۔ مجھے چھوڑ دو۔ سائل: کیا نظر کروں؟ جواب: اس کا دل۔ سائل: وہ کہاں ہے؟ جواب: چہار سُو۔ میرے اندر میرے باہر۔ میں روانہ ہو گیا۔ میرے پیچھے ایک سائل تھا۔ اس کے آنے سے پہلے سناٹا تھا۔ میں خاموش رہا۔ پھر سوال اٹھا، وہ ٹوٹ گیا۔ سوال: یہ دیوار کیوں گرائی؛ یہ بچہ کیوں مارا؛ یہ کشتی میں سوراخ کیوں کیا۔ وہ صحیفہ دکھا جو تجھ پہ اترا۔ وہ خدا دکھا جو جبل پہ تجھ سے مخاطب ہوا۔ جواب: مجھے چھوڑ دو۔

Featured

پارلیمان

I — 7 (2015)

اب تک اس کے ہاتھوں سے پسینہ بہہ کے اس کے خشک ہونٹوں پہ امرت کی طرح ٹپک چکا ہوگا۔ میں نے خیال ظاہر کیا۔ انھوں نے بےخیالی میں اثبات میں سر ہلا کے میری تائید کی۔ مجھے اِسی کی ضرورت تھی۔ حضرات، میں نے تیز آواز میں کلام جاری رکھا۔ جب تک ہمارے جسموں میں خون کا ایک بھی قطرہ باقی ہے ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ پچھلے ڈیسکوں سے تالی پیٹنے کی آواز سنائی دی۔ کئی ایک جماہی لیتے ہوئے، پیچھے والوں کی جرأت کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ یہ میرے خلاف جا سکتا تھا۔ اِنھیں سوتے رہنا چاہئے تھا۔ میں نے اسپیکر کو دیکھا جو کہ سیکریٹری کو کچھ بتا رہا تھا۔ مجھے اب لگنے لگا تھا کے میری ہار یقینی ہے۔ اسپیکر تک ضرور میرے متعلق کوئی اہم بات پہنچی تھی۔ تبھی یہ کھسر پھسر ہو رہی تھی۔ وہ مجھ سے تھوڑی دیر بیٹھنے کی درخواست کرے گا۔ پھر کہے گا کہ قورم کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے۔ اِس معاملے کی پہلے تحقیق ضروری ہے۔ کچھ دیر بعد وہ مجھے بھول جائےگا۔ ہاں۔ وہ مجھے بھول جائے گا۔ اِس جملے کو دو بارلکھ لینے سے بھی آپ کو معاملے کی نزاکت اور سنگینی کا احساس نہیں ہو پائے گا۔ لیکن میں نے ایسا ہوتے اتنی بار دیکھا ہے کہ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ میں بینچ سے اٹھا ہی کیسے؟

قورم = quorum

چونچلے

Photo by Jill Burrow on Pexels.com

XVII — 7 ext (2017)

ایک سفید گلاب، ایک کارنیشن، چند موتیا میرا روز کا معمول تھا۔ پر اس روز محبت کا دن تھا۔ لوگ  پھول خرید کے اس کو مناتے تھے، سو میرے ہاتھوں میں پھول دیکھ کے منچلوں کا ایک ٹولہ مچل اٹھا: کیوں انکل یہ پھول کس کےلئے لے جا رہے ہو؛ کیا کسی کمسن حسینہ سے آنکھ لڑ گئی ہے۔ میں چپ چاپ چلتا رہا۔ ان کے قہقہے دیر تک پیچھا کرتے رہے۔ پھر ایک موڑ آیا، اورچند نوجوانوں نے مجھے روک دیا۔ حضرت، آپ باریش ہیں، آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ یہ دن مناتے پھریں۔ بیٹا میں دن نہیں منا رہا، میں روٹھی محبت منا رہا ہوں۔ دن، محبت سب واہیات ہے۔ بیٹا، خرابی پھولوں یا دن میں نہیں ہے۔ پھول میں ہر روزلیتا ہوں اور یہاں سے گزرتا ہوں، شاید تمھاری نظر مجھ پہ نہیں پڑی۔ (خاموشی)۔ محبت کو بھی بلاوجہ برا کہہ رہے ہو: تمھاری بیوی ہوگی، بچے یا ماں باپ ہوں گے، کیا تم ان سے محبت نہیں کرتے۔ دن دیکھے بنا محبت جتاؤ، بغیر کسی وجہ کے تحفے دو۔ ہم سے یہ چونچلے نہیں ہوتے۔ آپ جو روز پھولوں پہ خرچ کرتے ہیں اس سے کسی غریب کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ میں سر جھکائے وہاں سے روانہ ہوگیا۔ جب قبرستان  پہنچا تو گورکَن-کم-چوکیدار مجھے پہچان کے بولا: آج آپ نے دیر کردی۔ میں ہولے سے مسکرا دیا۔ اپنی منزل پہ پہنچ کے پھول رکھ دیے۔ جانے اِن کی خوشبو تم تک پہنچتی ہے یا نہیں۔

مالا

Photo by Eva Elijas on Pexels.com

XXI — 7 ext (2017)

سو اگر تم دیکھ سکو تو کہہ دینا کہ تمھیں سننے کےلئے کب سے ترسا ہوا ہوں۔ پھر عرصے بعد اگر کوئی چاہے کہ میں تم پہ—تم پہ احسان جتلاؤں تو پوچھے اور میں کہوں کہ میں نے اپنی ایک آنکھ تمھیں دے دی اور تمھاری آنکھ خود لگالی۔ اب اگر تمھاری میری آنکھوں کے رنگ مختلف ہیں،تھے تو اس میں تم ہی کہو میرا کیا قصور۔ میں تو—میں توبس تمھیں خوش رکھنے کےلئے پیدا کیا گیا تھا۔ پھر کیا وہ ایک خدا کو چھوڑ کے کسی اور کے سامنے سجدہ ریز ہوسکتے ہیں۔ اور اگر تمھاری خوشی اسی میں ہے کہ میں

Pitcairn

جزیرے پہ

incest

 کا مرتکب ہوجاؤں تو میں روگردانی کرسکتا تھا۔ پھر صدیوں بعد وہ کہانی بُنیں گے کہ وہ شاہوں کا شاہ بڑھاپے میں

Venus

کا ہوگیا تھا، یہ جانے بنا کہ اس کو اِسی کا حکم ہوا تھا۔ اور مجاور بن گیا میں اس قبر کا جہاں تمھارا

Umbilical Cord

دفن ہے۔اور جب میں بھلا دوں کہ تمھاری پیدائش بیسویں صدی میں ہوئی تھی تب میں تاریخ میں 1 ڈھونڈھ لیتا ہوں، چاہے

Julius

جو بھی کہے۔ لیکن جب تم تک ہی نہ پہنچے تمھارے عشق کی گرمی تب کیا فائدہ۔

سو دوائی کی ایک دوا

XX — 7 ext (2017)

ڈاکٹرمجھے لگتا ہے میں رینگنے والا  یا پھر جل تھلیا ہوں۔ کیوں؟ میں نے جوہڑ اور کلی لکھیں ہیں—انھیں آپ پڑھ لیں۔ اتنا وقت کہاں ہوتا ہے۔ میں ڈبل رقم دینے کو تیار ہوں۔ (پڑھنے کے بعد): تمھیں لگتا ہے کہ تم اپنی کہانیوں کا کردار بن گئے ہو۔ نہیں، میں ایسا محسوس کرتا ہوں اس لئے میں نے یہ کہانیاں لکھیں ہیں۔ ایسا کب سے ہے؟ چند سالوں سے۔ اور پہلے؟ پہلے کبھی دھیان نہیں گیا۔ کوئی اور بات۔ مجھے گرےاسکیل میں اپنی محبوبہ زیادہ خوبصورت لگتی ہے، اور جب میں اس کو باتھ ٹب میں دیکھتا ہوں تو میں پاگل ہوجاتا ہوں؛ آپ نے الزبتھ گرانٹ کی

 ‘Blue Jeans

کی وڈیو دیکھی ہے۔ کہہ نہیں سکتا کہ اتفاق ہوا ہے۔ (وڈیو دکھانے کے بعد): لگتا ہے یہ مجھ پہ مبنی ہے۔ کاش کوئی عینک ہوتی کہ جس میں سے دیکھتے ہوئے سب گرےاسکیل دِکھتا۔ کیا پچھلے چند برسوں میں کسی صدمے سے گزرے ہو؟ میرا بھرم ٹوٹ گیا تھا۔ بھرم؟ مجھے لگتا تھا کہ میں ہاتھ بڑھاؤں گا اور وہ میرا ہاتھ تھام لےگی۔ تمھیں مالیخولیا  کا مرض ہے۔ دوا؟ ذہنی طاقت کےلئے لکھے دیتا ہوں کہ علاج کوئی نہیں۔ کوشش کرو کہ شکر ادا کرو کہ وہ ہے اور دعا کرو کہ وہ  خوش  رہے۔ (ماخوذ)

پیسہ ہضم

Photo by Andrea Piacquadio on Pexels.com

XXIV — 7 ext (2017)

کل آج 4.4.17 تھا۔ نہیں یار

 4×4=16

ہوتاہے۔ غلط، 4+4=8 ہوتاہے۔تم دونوں غلط ہو،  4-4 کچھ نہیں ہوتا۔ ہوتا ہے کیوں نہیں ہوتا: 4÷4=1! نہیں بھئی 44=256۔یہ تو ہے ہی کمپیوٹر اس کی چھوڑو، ضرور یہ سٹے کا بھاؤہے—4نمر پہ4 لگانے سے 17 ملتا ہوگا، کیوں بھائی یہی ہے، نا۔ 44 چوالیس ہوتا ہے۔ خطرہ، 440 والٹ کا جھٹکا! اور 17 کا مٹکا آیا تھا کیا۔ دفعہ 144 کا تذکرہ چل رہا ہے، خلاف ورزی پہ 7 اندر۔ اسکوٹر پہ 8 سوار ہوں گے۔ تو؟ آٹھواں کدھر گیا۔ علم الاعداد کے حساب سے 44 اور 17،دونوں 8 کے برابر ہیں۔ میرے خیال میں تو یہ الیکٹرون کے شیلز ہیں یا کسی پھول کی پتیوں کی ترتیب۔ ایک ایک ہٹاتے جاؤ اور کہتے جاؤ:۔

 Loves me / Loves me not!

 کیا الیکٹرون؟

وہ، جس نے اقرار کیا تھا

Photo by Jill Burrow on Pexels.com

XXIII — 7 ext (2017 [fool’s day])

جب آدمی کے ماتھے پہ ا-ح-م-ق لکھا ہو تو بڑی مصیبت ہوجاتی ہے: چاہے آپ سچ میں احمق ہوں یا نہیں، لوگ آپ کو بےوقوف بنانا اپنا فرضِ عین سمجھنے لگتے ہیں—اور لاکھ بندہ دامن بچائے، روز کوئی نہ کوئی نوسربازی کرجاتا ہے، چاہے وہ راون کا ماننے والا ہو یا رحمن  کا۔ اچھا صاحب یہ بتائیں کہ یہاں آپ کیا کر رہے ہیں؟ مفت کی روٹی کھانے کا بڑا شوق تھا سو چلا آیا؛ تم۔ میں تو بھیا اِس سے آزاد ہوں، لکھتا ہوں—الفاظ میرا کھاجا، میرا بچھونا۔ زندہ کیسے ہو؟ کس نے کہا کہ میں زندہ ہوں۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، لیکن کیا کیا تھا؟آرٹ کے نام پہ ایک آدمی کا خون… اس کی لاش کو گیلری نمر 6 میں رکھ کے اس پہ ٹکٹ لگوادیا۔ میں تمھیں پانی کی بوتلیں ضائع کرنے نہیں دیتا، تم نے آرٹ کے نام پہ خون کر دیا! (خاموشی)۔

جیل پہ قبضہ کرلیا گیا ہے… تم بھاگنے والے واحد کامیاب قیدی تھے… جس راستے سے تم نکلے تھے اس سے اندر پہنچا دو… بدلے میں غیرمشروط رہائی۔ میں نے انھیں اندر داخل کرایا۔ پیچھے سے انھوں نے وہ راستہ ہی بند کردیا۔ اب یہاں سے میری روح ہی باہر نکل سکتی ہے۔ غلط ۔ کون ہے؟ (خاموشی)۔

خاردار باڑ

Photo by Mohammed Hassan on Pexels.com

1— link

2— link

XXV — 7 ext (2017)

3—

میز کی دراز میں فن پارہ دھرا تھا۔ جس کو دیکھنا ہوتا، دراز باہر نکال کے دیکھتا۔ دراز میں کیوں؟ تاکہ خفیہ رہے۔ تاکہ لوگ دیوار پھاندیں دیکھنے کےلئے۔ تاکہ ایک وقت میں کم لوگ دیکھ پائیں۔ تاکہ اشتیاق بڑھے۔ لوگوں کو ہمیشہ نیا چاہئے۔ نیا روز، نیا اخبار، نئی شہ سرخی۔ نہ ملے تو خود سے بنادو۔

 WMD

  کا جواب جوتے سے۔ حالاں کہ 25 اپریل پچھلے سال  تھا، اس سال ہے، اور اگلے سال ہوگا۔ آج سے 4034 سال قبل بھی 2017 تھا۔ پھر بھی اوریجنل چاہئے ۔ تاکہ صرف میں ہی رنگوں سے کھیل سکوں، میں نے واضح کردیا: یہ ہماری تصویریں  ہیں( وہ اور میں اور ہم) ؛ کچھ اس کے رنگ، کچھ میرے اور، سیاہ سفید ہم دونوں کے؛ کچھ اس کے نشان، کچھ میرے اور، دائرے ہم دونوں کے، کہیں یکجا، کہیں علیحدہ؛ کہیں بس وہ، کہیں صرف میں۔ کہیں کھونے کا خوف، کہیں پانے کی تمنا۔ کہیں اس کے ہونے کی شکرگزاری، کہیں اس کے ساتھ نہ ہونے کا شکوہ۔ لیکن وہ گلابی نہیں، لیکن میں نیلا نہیں۔ پر یہ تصاویر بیچنے کےلئے نہیں۔ یا بیچنے لائق نہیں۔ میں گیلری نمر 6 کے مالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے میری تصویروں کو دکھانے کے قابل سمجھا۔

4—

وہ—دنیا کی سب سے خوبصورت پنٹنگ تھی۔ تم روز اس کو دیکھنے آتے تھے۔ پھر وہ چوری ہوگئی۔ تم نے خودکشی کرلی۔ نہیں، تمھیں گرفتار کرلیا گیا۔ تمھارے اسٹوڈیو سے وہ برآمد ہوئی۔ تم خود آرٹسٹ ہو، کیا اس کی کاپی بنانے والے تھے۔ یہ کاپی ہی ہے۔ کیا، کوئی چلایا۔ تمھاری آواز دب گئی۔ تصویر واپس لٹک گئی۔ کیا تم تصویر بیچنا چاہتے تھے؟ بیچنا، کیا ہوتا ہے؟ پھر تمھارے دوست کو تمھیں سمجھانے کےلئے لایا جاتا ہے۔ تم کہتے ہو (پوچھتے ہو) میں چور نہیں ہوں۔ پھر تم اعتراف کرتے ہو: میں روز روز نہیں جاسکتا تھا۔ اس میں کیا خاص بات ہے؟ کسی اور کی بنائی وہ واحد پنٹنگ ہے جس کے رنگوں کی بُو میں اپنائیت کا احساس ہے۔تمھارے دوست کی کاوش رنگ لاتی ہے: تم چھوٹ جاتے ہو۔ اس شرط پہ کہ آئندہ تم اس کے پاس نہیں پٹکو گے۔ تم چپ چاپ دستخط کردیتے ہو۔ یہ دستخط تو میں نے کہیں دیکھا ہے۔ تمھارا دوست اس پہ مسکرا دیتا ہے۔ تم لیکن اسٹوڈیو جانے کےلئے بےچین ہو۔ اسٹوڈیو کا دروازہ کھول کے اندر جھانکتے ہو۔ وہاں صرف تمھارا سایہ ہے۔ تم دروازہ بند کردیتے ہو۔ تمھارے سامنے دنیا کی سب سے خوبصورت پنٹنگ ہے کہ جس پہ تم نے نئی پنٹنگ بنا دی ہے۔ جہاز پانی میں کھو چکا ہے، ہمیشہ کےلئے۔

5—

وہ—رات کے اندھیرے میں دیواروں کو رنگ آلود کردیتی تھی۔اس کے پیغام عجیب تھے، اس کی لڑائی جیسے کسی غیرمرئی ایلین سے تھی۔ میں کہ شہر کا میئر تھا، اس کی گرافیٹی  سے سخت نالاں تھا، (جیسے میں نے شہر کے تمام موالیوں کو غائب کردیا ہو)۔ میں نے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی تھی تاکہ اس کو قید کیا جاسکے۔باوجود کافی کوشش کے وہ ہاتھ نہ آئی۔ اس کی تصویر کشی کے سبھی معترف تھے، میں بھی، لیکن اس بہانے اس کو کھلی چھٹی نہیں دے سکتا تھا۔ وہ ایک ہی علاقے میں باربار کام نہیں کرتی تھی—ایسے علاقے کم ہی رہ گئے تھےجہاں اس نے تصویر نہ بنائی ہو— سو میں رات کے وقت اپنی پسندیدہ ٹوپی جس میں میرا چہرہ کافی حد تک چھپ جاتا تھا، پہن کے بچے کچھے علاقوں میں نکل جایا کرتا۔ ایک رات سردی کے باعث میرے دانت بج رہے تھے (میرے حکم کے مؤجب اس وقت کوئی ریستوران وغیرہ نہ کھلا بچا تھا کہ میں کافی کا کپ دستانے میں ملفوف دونوں ہاتھوں میں پکڑ سکوں—مجھے یاد آیا ایسا کافی عرصے سے ہی نہیں ہوا)۔ ایک موڑ کاٹتے ہی ایک سفید پھوار میرے چہرے اور ٹوپی پہ پڑی۔ میرے دانت بجنا بند ہوگئے جبکہ میں کچھ دیکھنے کے قابل نہ رہا۔ ہینڈز اپ۔ اس کی آواز میں حکم تھا لیکن وہ ہرگز کسی مرد کی آواز نہ تھی۔ میں نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی لیکن ایسا کسی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا۔ اس نے میری جیب سے کچھ نکالا۔ میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس کے خاموش رہو نے میرے بوڑھے جی میں تاقیامت چپ رہنے کی چاہت ڈال دی (تاآنکہ میں اپنی بیوی سے نہ مل لوں)۔ جب میں دیکھنے قابل ہوا تو وہ راہزن وہاں نہ تھی۔ راستے میں ایک پولیس والی نے میرے رنگ آلود کوٹ اور ٹوپی کو مشکوک پاتے ہوئے مجھے روک لیا۔ میں نے قدرے تفاخر سے جیب میں ہاتھ ڈالا تاکہ…۔ اس نے پھرتی سے پستول مجھ پہ تان لیا۔ میں اپنے کاغذ دکھانا چاہتا تھا۔ وہ خاموش رہی۔ میں نے بٹوہ نکالا لیکن شناختی کاغذات غائب تھے۔ میں میئر ہوں، میں نے تحکمانہ لہجے میں کہنا چاہا۔ اور میں فرشتہ ہوں۔ تمھارے پر…؟ اور تمھارے کاغذ؟ اس کے بالوں میں پراسرار چمک تھی کہ ہتھکڑی کی چمک ماند پڑ گئی۔ میرا جرم کیا ہے؟ مجھے ڈھونڈھنا۔ اگلے  روز کی سرخی تھی—میئر حوالات میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔ میں نے استعفیٰ دے دیا۔ اگلے میئر نے اس کی گرافیٹی کو ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔

اعتراض

Photo by Javier Pastrana on Pexels.com

XXVIII — 7 ext (2017)

وہ بارودی سرنگیں ہٹانے والی پہلی لڑکی تھی۔ مجھے اسکواڈ میں اس کے ہونے پہ اعتراض تھا، اور میں نے سب کے سامنے اس پہ جتا بھی دیا۔ سپیریئرز سے بات کرو۔ کچھ کھی کھی کرنے لگے۔ وہ خاموشی سے بستر پہ لیٹ کے چھت گھورنے لگی۔ تمھیں سپیریئرزسے بات کرنے کی تمیز نہیں۔ اگروہ تہذیب سے بات کریں۔ 30 پش اپس! اس نے تیزی سے مکمل کرلئے۔ میں اپنی انّا پہ ہاتھ پھیرتے باہر نکل آیا۔ اگلے روز سرنگ صاف کرتے ہوئے ہمارا ایک ساتھی زخمی ہوگیا۔ میں نے اس کو زخمی کی مرہم پٹی کرنے کےلئے کہا۔میں نرس نہیں ہوں، وہ کہانی ختم ہوچکی۔ کیا ؟ کچھ نہیں۔ میں زخمی کو فیلڈ ہسپتال لے آیا، جہاں ڈاکٹر کے چھٹی پہ ہونے کے باعث کوئی بھی ازخود پٹی کرنے پہ تیار نہ تھا، جس کی بناء پہ مجھی کو ڈریسنگ کرنی پڑی۔ چند دن بعد وہ اکیلی ایک جگہ سرنگ ہٹا رہی تھی کہ دشمن کا ریڈ پڑ گیا (اور کچھ نہیں ہورہا تھا اس لئے)۔ باقی سب بنکر کی جانب دوڑے، وہ لیکن وہیں پہ لیٹ گئی۔ جب حملہ رکا تو میں اس کی لاش لانے کےلئے نکل پڑا۔ وہ لیکن سیٹی بجا رہی تھی۔ اس کا محبوب دشمن کے جہاز میں بیٹھا ہوگا۔ جنگ کے اختتام پہ اس نے سب سے زیادہ بار ڈیوٹی سرانجام دے کے میڈل جیت لیا۔ جیوری ممبران سبھی مرد تھے، میں نے سنا ہے۔

ریڈ = raid

ھینڈزاَپ

Photo by Eva Elijas on Pexels.com

XIX — 7 (2015)

آخری باری میں بھی الفاؔ ” دوبارہ زحمت نہ کریں” کے الفاظ کی حامل مہر سے شکست کھا گیا۔ لیکن گھر آنے کے بجائے اپنی طرح کے دوسرے ریجیکٹس کو جمع کرنے لگا۔ کیا مظاہرے کرنے ہیں؟ نہیں۔ پھر وہ سر جوڑ کے کھسر پھسر کرتے رہے۔

چند مہینوں بعد۔ یہ سب ہم اپنے بل بوتے پہ کرتے رہے ہیں۔ مطلب؟ سرکار سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ جھوٹ مت بولو۔ سچ کہہ رہا ہوں، سرکار نے تو “تمھاری ضرورت نہیں” کہہ کے دروازہ بند کر دیا تھا۔ تو؟ چیف نے سوچا، کیوں نہ مذاق مذاق میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے…۔ سمجھا؛ تکنیکی طور پہ تم بھی مجرم ہو، ہے نا۔ شاید۔ اِن

MP

کے بیجز پہ ملٹری پولیس تمھیں خوب ‘مارشل’ کرے گی۔ ہی، ہی، ہی! غور سے دیکھیں، اِس پہ لکھا ہے، “فوج کو ____ مبارک”۔ اور یہ وردی؟ یہ اسٹیج ڈرامے سے چُرا کے…۔ چُرا کے؟ ہی، ہی، ہی! بندوق لیکن اصلی ہے؛        ھینڈزاَپ!أ